سچ کہوں تو میری ذاتی راۓ یہی ہے کہ کوٸی بھی مذہب انسانیت کے مذہب سے معتبر نہیں ہے۔۔۔۔جب مذاہب معاشرتی اصلاح کے لیے وجود میں آتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کوٸی مذہب انسانیت کے احترام سے بالادست ہو جاۓ۔۔؟؟ انسان کا پہلا عقیدہ انسانیت ہے۔۔۔اگر آپ میں انسانیت نہیں ہے تو آپ کتنی …
مکے گیا گل مُکدی نا ہی پاویں سو سو جمعے پڑھ آیے۔۔
گنگا گیا گل مُکدی ناہی پاویں سو سو غوطے کھایے۔۔۔
گیا گیا گل مُکدی نا ہی پاویں سو سو پنڈ پڑھایے۔۔۔
بُلھے شاہ گل تایوں مُکدی جدوں میں نوں دلوں مُکایے۔۔
دیکھیے اگر آپ کا مذہب حق ہے تو آپ اپنے مذہب میں انسانیت شامل کر لیں تاکہ لوگ آپ کے مذہب کو سمجھنے کے لیے آپ کے قریب آٸیں۔۔۔۔یہ سچی تبلیغ ہوتی ہے۔۔۔نفرتیں حقارتیں دوری پیدا کرتی ہیں اور ممکن ہے یہ دوری آپ میں دشمنی پیدا کردے۔۔۔۔کیا یہ دوشمنی نہیں ہے کہ آپ کا خدا شیطان کو کہہ رہا ہے جاو جو میرے بندے ہوں گے وہ تمہاری پیروی نہیں کریں گے۔۔۔۔اور آپ بندوں کو پکڑ پکڑ کر اُسکا بندہ بنانے کوشش کررہے ہیں وہ آزاد کر رہا کہ میرا بندہ اپنی مرضی سے مجھ تک آۓ۔۔۔
ہندووں نے تو بات ہی ختم کر دی ہے ہر حربہ آزمالیا مسلمانوں سے مذہب چھننے میں اُنہیں کافر کرنے میں ۔۔۔افسوس کہ انڈیا نے تو مسلمانوں سے قانونی طور پر شہریت ہی چھین لی ہے۔۔۔۔افسوس کہ وہاں کے مسلمانوں نے قاٸداعظم کی دور اندیشی کو مذاق سمجھا تھا۔۔۔بھٸی کیا تکلیف ہے تمہیں اگر کوٸی مسجد میں جاتا ہے وہ تمہارے مندر کے دروازے تو بند نہیں کر رہا۔۔۔۔یاد رکھیے گا اگر انڈیا کے ساتھ یہ ہورہا ہے تو محفوظ دوسری اقلیتیں بھی نہیں ہیں۔۔۔۔۔اپنے اپنے مذہب کو رسیاں ڈال کر تم سب کہاں لے کر جا رہے ہو؟؟؟ ارے خدا کو خدا مانتے ہو تو آگے کیسے چل سکتے ہو۔۔۔۔یہ تووہ مقام ہوتا ہے کہ۔۔۔۔
جہاں دل جُھکے وہیں سر جُھکا۔۔
وہیں ہاتھ جوڑ کر بیٹھ جا۔۔
نہ سوال کر نہ جواب۔۔۔
بہرحال یہ دُنیا اللہ نے انسانوں کے لیے بناٸی تھی مگر افسوس انسانوں نے انسانوں کے قابل نہیں چھوڑی۔۔۔ابھی وقت ہے یہ تماشہ روک دیا جاۓ ۔۔ابھی وقت ہے کہ یہ برصغیر اپنے آپ کو بچا لے۔۔۔ابھی وقت ہے کہ جیو اور جینے دو کا فارمولا نافز کر دیا جاۓ۔۔۔۔۔
International Seerat-un-Nabi Conference 2026 draws Muslim families to Baltimore; Muslims of America serves as Grand Sponsor, with Serving the Humanity and other community organizations participating
In a week that captured the attention of diplomats and diaspora communities alike, Dr. Jasdip Singh Jesse and Dr. Sajid Tarar undertook one of the most unusual dual visits in recent memory. They walked out of the White House in Washington and stepped days later into the Prime Minister’s House in Islamabad. Their journey, bridging …